ہڑتال قبول نہیں ! کیا عمران خان سوات میں قید کہ یہاں ہڑتال کی جارہی ہے ، تاجروں کا بازار کھلے رکھنے کا فیصلہ

ہڑتال قبول نہیں ! کیا عمران خان سوات میں قید کہ یہاں ہڑتال کی جارہی ہے ، تاجروں کا بازار کھلے رکھنے کا فیصلہ

سوات میں 8 فروری کو ہونے والی ہڑتال کی کال تاجروں اور شہریوں نے مسترد کر دی، اور شہر کے تجارتی مراکز آج مکمل طور پر کھلے ہیں۔ دکانیں کھلی ہونے کے ساتھ ہی گاڑیوں کی آمدورفت بھی بحال ہو گئی ہے، جس سے شہر کی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔

تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ منتخب نمائندوں سے مایوس ہیں اور اس ہڑتال کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ متعدد تاجروں نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان سوات میں قید ہیں کہ یہاں ہڑتال کی جا رہی ہے، اور اس ہڑتال کا اصل مقصد کیا ہے؟

سوات کے شہریوں نے بھی تاجروں کے فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ روزمرہ معمولات متاثر ہونے کی وجہ سے ہڑتال کے حق میں نہیں ہیں۔ شہر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال کے باوجود بازار کھلے رہنے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ شہری اور کاروباری برادری اس ہڑتال میں شامل نہیں ہے۔

تاجر برادری نے واضح کیا کہ وہ صرف معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور شہر میں کاروبار کو متاثر کرنے والی کسی بھی غیر ضروری ہڑتال کی مخالفت کرتے ہیں۔

سوات میں تاجروں اور شہریوں کی یہ یکجہتی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ عوامی اور تجارتی مفادات کو سیاسی ایجنڈا متاثر نہیں کر سکتا، اور شہر میں معمولات زندگی بحال رہیں گے۔

Scroll to Top