پاکستان مخالف مبینہ پروپیگنڈا پھیلانے والا ’بہوت بلوچ‘ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ مستقل طور پر معطل
پاکستان کے خلاف مبینہ جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت ’بہوت بلوچ‘ کے نام سے چلنے والا ٹوئٹر (ایکس) اکاؤنٹ مستقل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اکاؤنٹ پاکستان آرمی کے خلاف گمراہ کن اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بہوت بلوچ کو پاکستانی حکام کی جانب سے کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا مبینہ سہولت کار قرار دیا گیا تھا۔ حکومتِ پاکستان بی ایل اے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے، جس پر ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف متعدد پرتشدد کارروائیوں کا الزام ہے۔
ذرائع کے مطابق الزام ہے کہ مذکورہ اکاؤنٹ کے ذریعے عسکریت پسند بیانیے کو فروغ دیا جا رہا تھا، جبکہ مبینہ طور پر تنظیم سے وابستہ افراد سے آن لائن رابطے بھی قائم رکھے گئے۔ سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے پیغامات پھیلانا تنظیمی سرگرمیوں کی سہولت کاری کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
تاہم، اس معاملے میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ الزامات کی تاحال آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی عدالتی فیصلہ عوامی سطح پر جاری کیا گیا ہے۔ اسی باعث اکاؤنٹ کی معطلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی، شفافیت اور قانونی عمل سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اکاؤنٹس کے خلاف مؤثر اقدامات کریں جو مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت، پروپیگنڈا یا انتہا پسند سرگرمیوں میں استعمال ہو رہے ہوں۔
سیکیورٹی اور پالیسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے، تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ریاست مخالف یا تشدد پر مبنی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔





