اسلام آباد: دنیا بھر میں گردے کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری اب اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہو گئی ہے۔
عالمی تحقیق کے مطابق تقریباً 788 ملین افراد طویل عرصے تک گردے کی بیماری کا شکار ہیں، جو 1990 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال تقریباً 1.5 ملین افراد گردے کی ناکامی کے سبب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق گردے جسم کے لیے انتہائی اہم اعضاء ہیں، جو خون کو صاف کرنے، فضلہ خارج کرنے اور جسم میں نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
تاہم بلڈ شوگر، بلڈ پریشر، موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی گردوں کی کارکردگی متاثر کر سکتے ہیں، جس سے گردے کی ناکامی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین نے عوام کو گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے چند اہم تدابیر اپنانے کی ہدایت دی ہے:
1. بلڈ شوگر کو قابو میں رکھیں: زیادہ شوگر گردوں کی فلٹریشن صلاحیت کو کمزور کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چوری کا میگا سکینڈل منظر عام پر
2. بلڈ پریشر مستحکم رکھیں: ہائی بلڈ پریشر گردوں کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر ان کی کارکردگی متاثر کرتا ہے۔
3. ادویات کا بے جا استعمال نہ کریں: درد کش اور NSAIDs دوائیں طویل استعمال پر گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
4. پروٹین کا متوازن استعمال: ضرورت سے زیادہ پروٹین گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
5. روزانہ مناسب پانی پئیں: پانی گردوں کو فضلہ خارج کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
6. نقصان دہ کیمیکلز سے بچیں: کھانے، پانی یا جلد پر لگنے والے زہریلے کیمیکلز گردوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
7. خاندانی صحت سے آگاہ رہیں: اگر خاندان میں کسی کو گردے کے امراض ہیں تو باقاعدگی سے چیک اپ کروائیں۔
یہ بھی پڑھیں : روزانہ انڈے سے دل، دماغ اور جسم پر کیا اثر پڑتا ہے؟ یہ جاننا ضروری ہے
8. وزن قابو میں رکھیں: زیادہ وزن گردوں پر دباؤ بڑھاتا ہے اور ذیابیطس و بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
9. باقاعدہ گردوں کی جانچ کروائیں: خون اور پیشاب کے ٹیسٹ بیماری کے ابتدائی اشارے وقت پر سامنے لاتے ہیں۔
10. صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں: متوازن غذا، مناسب نیند اور روزانہ ورزش گردوں کی کارکردگی بہتر بناتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گردے اکثر خاموش قاتل کہلاتے ہیں کیونکہ ابتدائی مراحل میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، مگر یہ احتیاطی تدابیر اپنا کر افراد گردوں کی صحت برقرار رکھ سکتے ہیں اور خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔





