پاکستان تحریکِ انصاف خیبرپختونخوا کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی اور قیادت کے طرزِ عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
مبینہ لیک آڈیو میں جنید اکبر کہتے سنے گئے ہیں کہ ان کا صبر جواب دے چکا ہے اور وہ اب پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق وہ چیف وہپ، پارلیمانی لیڈر یا دیگر عہدے داروں کی اتھارٹی کو بھی تسلیم نہیں کریں گے۔
جنید اکبر نے شکایت کی کہ پارٹی کے اندر فیصلے چند افراد روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں، جبکہ منتخب اراکین کو ایوان میں اظہارِ خیال کا موقع تک نہیں دیا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پورے سال میں چند ہی بار اسمبلی میں بول سکے، حتیٰ کہ بجٹ اور دیگر اہم امور میں بھی انہیں نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عوامی نمائندوں کو صرف حاضری لگانے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، اور کہا کہ پارٹی میں شرافت اور برداشت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر نے مزید کہا کہ دہشت گردی جیسے سنجیدہ مسائل پر بھی سوال اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت یا دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں کیا ہیں، جبکہ معمولی معاملات پر روزانہ تنقید اور مذاق جاری رہتا ہے۔
جنید اکبر نے اعلان کیا کہ وہ پارلیمانی کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں اور آئندہ اسپیکر قومی اسمبلی سے براہِ راست رابطہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ آزاد حیثیت میں ایوان میں بیٹھنے کے لیے اسپیکر کو باضابطہ درخواست دیں گے۔





