پشاور کی گلیوں میں چوہوں کا راج، شہری عدالت پہنچ گئے

پشاور: شہر کے مختلف علاقوں میں چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خلاف شہریوں نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست ورسک روڈ، چارسدہ روڈ، بشیر آباد اور دیگر علاقوں کے شہریوں کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاور میں صفائی کی ناقص صورتحال اور ناقص سیوریج انتظامات کی وجہ سے چوہوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار حکومت اور انتظامیہ سے اس مسئلے کے حل کے لیے رابطہ کیا، مگر اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ 2016 میں بھی پشاور میں یہی مسئلہ سامنے آیا تھا، اور چوہوں کے انسانوں کو کاٹنے کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں اس سال کے دوران 423 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں چوہوں نے شہریوں کو کاٹا۔

یہ بھی پڑھیں : کرک میں افسوسناک واقعہ: باپ اور بیٹے سمیت تین افراد جان کی بازی ہار گئے

اس دوران پشاور انتظامیہ نے 2016 میں ایک سکیم شروع کی تھی جس کے تحت چوہے مارنے پر مالی انعامات دیے جاتے تھے، تاہم شہریوں کے مطابق موجودہ حالات میں کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

درخواست میں صوبائی حکومت، محکمہ صحت، ڈی سی، چیف ایگزیکٹو ڈبلیو ایس ایس پی اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

شہریوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت اور انتظامیہ فوری اقدامات کرے تاکہ چوہوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو قابو میں لایا جا سکے اور عوام کی زندگیوں کو درپیش خطرات کو کم کیا جا سکے۔

Scroll to Top