اسلام آباد: پاکستان میں جاری مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ کے دوران کاروں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں کاروں کی فروخت 43 فیصد اضافے کے ساتھ 111,377 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے میں یہ تعداد 77,686 یونٹس تھی۔
رپورٹ کے مطابق صرف جنوری 2026 میں 23,055 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو گزشتہ 43 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ فروخت سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 74 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے، جسے آٹو انڈسٹری کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فروخت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی اور لائٹ اینڈ اسمال انڈسٹری کی بہتر کارکردگی شامل ہیں۔
آٹو انڈسٹری کے تجزیہ کار مشہود خان کے مطابق اگر آٹو فنانسنگ کی سہولیات کو مزید آسان بنایا جائے تو آئندہ برس گاڑیوں کی فروخت 250,000 یونٹس تک پہنچ سکتی ہے۔
پاما کے اعداد و شمار کے مطابق دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ٹرک اور بسوں کی فروخت میں 91 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,633 یونٹس تک جا پہنچی۔ اسی طرح موٹر سائیکل اور رکشوں کی فروخت 32 فیصد بڑھ کر 1,103,356 یونٹس تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں : اورکزئی میں پائیدار امن کیلئے نئی حکمت عملی، اعلیٰ حکام کا بڑا فیصلہ
تاہم فارم ٹریکٹرز کی فروخت میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 15,434 یونٹس تک محدود رہی۔ ماہرین کے مطابق زرعی شعبے کو درپیش مشکلات، اجناس کی کم قیمتیں، کھاد اور ایندھن کی بڑھتی لاگت اور دیہی آمدنی میں کمی اس کمی کی اہم وجوہات ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ زرعی شعبے کو فوری مراعات نہ دی گئیں تو اس کے طویل مدتی معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کار اور موٹر سائیکل انڈسٹری کے ماہر محمد صابر شیخ کے مطابق کووڈ-19 کے بعد معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث صارفین نئی گاڑیاں خریدنے سے گریزاں تھے۔
تاہم حالیہ معاشی بہتری نے مارکیٹ میں خریداروں کا اعتماد بحال کیا ہے، جس کے نتیجے میں فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔





