بنگلادیش: بنگلادیش میں آج عام انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے، جس میں ملک بھر کے 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔
ملک کے 299 حلقوں میں پولنگ صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی۔
300 پارلیمانی نشستوں کے لیے سخت مقابلہ ہے۔ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، بنگلا دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور دیگر جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستیں حاصل کرنا لازم ہے۔
انتخابات کے دوران ملک بھر میں فوج تعینات ہے تاکہ امن و امان برقرار رہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو آزاد، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
تازہ عوامی سروے کے مطابق بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے، جبکہ بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے زیر قیادت 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ حاصل ہو سکتے ہیں۔ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس انتخابات میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور پولیس کی کامیاب کاروائی، دو مشہور بدنام زمانہ سنیچرز ہلاک
عوام بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہیں، اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخاب بنگلادیش کی سیاسی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ہی حکومت سازی کے امکانات واضح ہوں گے۔





