پاکستان کا اقوام متحدہ میں افغان سرزمین کے غلط استعمال پر سخت ردعمل

اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ میں افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان میں موجود کچھ گروہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں اور یہ صورتحال خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں بتایا کہ رواں ماہ پاکستان میں بی ایل اے اور داعش نے بزدلانہ حملے کیے، جن کے نتیجے میں دو علیحدہ حملوں میں 80 معصوم شہری جاں بحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے افغان سرزمین سے کیے گئے اور ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گرد کارروائیوں کے لیے اس سرزمین کا استعمال ہوا۔

پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں زور دیا کہ افغانستان اپنی سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے طالبان پر پابندیوں کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : ابھیشیک شرما کے پاکستان کے خلاف کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ سامنے آ گیا

عاصم افتخار نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی کارروائیوں کو روکیں اور انسداد دہشت گردی کے اپنے وعدوں کو پورا کریں تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے۔

پاکستان کے موقف کے مطابق دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام اور افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے افغان سرزمین پر نگرانی اور کنٹرول ناگزیر ہے۔

Scroll to Top