اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی صحت سب سے بڑی ترجیح ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو انہیں علاج کے لیے بیرون ملک بھی بھیجا جائے گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر بانی الشفا میں علاج پر راضی ہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں۔
انہوں نے مزید کہا اگر بانی کا چیک اپ کروانا ہے تو ضرور کروائیں۔ بانی سے ہماری ذاتی عناد یا دشمنی نہیں ہے۔ بانی کی صحت اولین ترجیح ہے۔ اگر بانی کو علاج کے لیے باہر بھیجنا پڑا تو ضرور بھیجیں گے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بیماری ریورسبل اور ریپئرنگ کے امکانات رکھتی ہے اور مکمل علاج سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پمز کی رپورٹ کے مطابق بانی کے علاج کے بعد آنکھ کی حالت بہتر ہے، جبکہ سلمان صفدر کی رپورٹ میڈیکل نہیں بلکہ وکالتی نوعیت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی کی درخواست پر انہیں پمز منتقل کیا گیا ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر چیک اپ کروا رہے ہیں۔
صدر الشفا آئی ٹرسٹ میجر جنرل (ر) رحمت خان نے بھی اس سلسلے میں وضاحت کی کہ ان کے ہاں بانی کے لیے کوئی خصوصی سہولت نہیں، اور عام قیدی کو بھی تکلیف ہونے پر علاج فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بین الاقوامی میڈیا کے دعوے ناکام: عطا تارڑ کا عمران خان کی جیل سہولیات پر ردعمل
انہوں نے کہا ہم سیاست میں ملوث نہیں ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو لایا جائے تو یقین دلاتا ہوں ہر ممکن بہترین علاج دیں گے۔ ہمارے پاس آنکھ کی ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔
سینیٹر ہمایوں مہمند نے بھی بانی کی صحت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا کہ بانی نے کئی بار اپنی بینائی میں کمزوری کے بارے میں آگاہ کیا، مگر کوئی توجہ نہیں دی گئی، اور انہیں آدھی رات کو اینٹی وی این جی ایف کا انجکشن لگایا گیا۔
سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا مجھے لگتا ہے کہ بانی کے ساتھ حکومت نے جان بوجھ کر یہ کیا۔ ہمیں ہر پاکستانی ڈاکٹر پر اعتماد ہے، لیکن بانی کی سہولت پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
اس سلسلے میں واضح ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ سب کے لیے حساس ہے اور حکومت نے بھی اس کی ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔





