ڈھاکہ: بنگلا دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے انتخابات کے بعد کئی حلقوں میں بڑے پیمانے پردھاندلی کا الزام لگادیا ہے جبکہ جماعت اسلامی نے بھی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے تحریک کا انتباہ دیدیا ہے۔
ڈھاکہ میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے این سی پی کے ترجمان آصف محمود نے کہاکہ انتظامی ہیرا پھیری سے نتائج تبدیل کئے جا رہےہیں
انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ13، ڈھاکہ15، ڈھاکہ16 اور ڈھاکہ17 پر نتائج کو تبدیل کئے گئے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ڈھاکہ 15 میںجہاں سے جماعت اسلامی کے امیر الیکشن لڑ رہے تھے، وہاں 20،000 سے 22،000 ووٹوں کا مسلسل فرق تھا، اچانک، بغیر کسی منطقی وضاحت کے، بی این پی کے امیدوار کو فاتح قرار دے دیا گیا۔
ڈھاکہ 8 کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک لیک ہونے والی فون پر بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ مسترد شدہ بیلٹس کو بی این پی کے امیدوار مرزا عباس کے حق میں حتمی گنتی میں شامل کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : بنگلہ دیش انتخابات،90سے زائد نشستوں کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج موصول
این سی پی رہنما نے نتائج کے اعلان میں تاخیر پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ جن مراکز میں این سی پی کے امیدوار آگے تھے اور شام 7 بجے تک گنتی ختم ہو چکی تھی، ریٹرننگ افسران نے آدھی رات تک نتائج روکے رکھے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ متنازعہ حلقوں کے نتائج کا اعلان اس وقت تک روکے جب تک الزامات کی تحقیقات اور واضح وضاحتیں فراہم نہیں کی جاتیں۔
آصف محمود نے ڈھاکہ11 میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگرچہ NCP امیدوار ناہید اسلام تقریباً 6,000 ووٹوں سے آگے ہیںلیکن ریٹرننگ افسر نے صرف 1500 ووٹوں کا فرق دکھایا۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد بات چیت کرے گا اور اس کے جواب میں اپنے حتمی فیصلے اور پروگرام کا اعلان کرے گا جسے انہوں نے ’’منصوبہ بند دھاندلی ‘‘ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ نیشنل سٹیزن پارٹی پارٹی نوجوانوں پر مشتمل پارٹی ہے جن کے ملک گیر احتجاج سے حسینہ واجد کااقتدار ختم ہوا اور وہ فرار ہو گئی تھیں۔

ادھر جماعت اسلامی نے بھی انتخابی نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور عہدیداروں پر دستخط شدہ رزلٹ شیٹ میں ردوبدل کا الزام عائد کیا ہے، عوامی مینڈیٹ کو چھیننےکی صورت میں سخت تحریک چلانے کا انتباہ دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل احسن المحبوب زبیرنے ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈھاکہ15 اور ڈھاکہ17 سمیت کئی حلقوں میں، ’’خاص پارٹی‘‘ کے حق میں نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
زبیر نے کہاہمارے سرکردہ رہنماؤں نے جن نشستوں پر مقابلہ کیا، ان پر پولنگ ایجنٹس کو دی گئی دستخط شدہ شیٹس کے مطابق نتائج کا اعلان رات 8 بجے یا 9 بجے تک ہونا چاہیے تھا لیکن ریٹرننگ افسران غیر معمولی تاخیر کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا اقوام متحدہ میں افغان سرزمین کے غلط استعمال پر سخت ردعمل
انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ-17 کے حلقے میں، دستخط شدہ شیٹ کو بعد میں تبدیل کر کے اوور رائٹ کر دیا گیا، اور تقریباً 5000 ووٹ کم کر دئیے گئے۔
زبیر نے کہا کہ ڈھاکہ 15 جہاں جماعت کے امیر شفیق الرحمان امیدوار ہیںوہاںجماعت کم از کم 20,000 ووٹوں سے آگے ہےوہاں بھی نتائج میں تاخیر کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک کے لوگوں نے فاشزم کے خلاف خون بہایا ہے۔ 1400 شہیدوں کے خون کے بدلے حاصل کیے گئے اس نئے بنگلا دیش میں اگر عوامی رائے کو آمرانہ انداز میں نظر انداز کیا گیا تو عوام اسے قبول نہیں کریں گے۔
ہم کسی سازش کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ضرورت پڑی تو ہم ایک سخت تحریک چلائیں گے۔





