پاراچنار: تعلیمی اداروں کو یکم مارچ سے بند رکھنے کا فیصلہ

پاراچنار کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان نے یکم مارچ سے اسکولز کھولنے کے باوجود احتجاجاً انہیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 اس حوالے سے پاراچنار میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف تعلیمی رہنماؤں نے کہا کہ پانچ ماہ سے پاراچنار اور کرم کے 100 سے زائد دیہات کی پانچ لاکھ آبادی خوراک، علاج اور ایندھن کی کمی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بھی تیل کی کمی کے باعث اسکولز بند رہے تھے، اور اس بار بھی اسٹیشنری، یونیفارم اور ایندھن کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی کھلنے میں مشکلات ہیں۔

 بگن میں کتابوں اور یونیفارم سے بھری گاڑیاں جلنے کے باعث طلبہ کو شدید مسائل کا سامنا ہے، اور بلیک مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 1200 سے 1500 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جو طلبہ اور اساتذہ کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

یہ بھی پڑھیں کو ہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کرلیا

تعلیمی رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ جب تک آمدورفت کے راستے نہیں کھلتے اور ایندھن کی فراہمی بحال نہیں ہوتی، تعلیمی ادارے بند رہیں گے، اور اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو احتجاجی تحریک شروع کرنے پر غور کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں، رہنماؤں نے کوہاٹ بورڈ کی مارکنگ میں مبینہ ناانصافی پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ آئندہ طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کو روکا جائے۔

Scroll to Top