پابندیوں کے بغیر معاہدہ نہیں، ایران نے امریکا کو واضح پیغام دے دیا

تہران: ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں اٹھانے پر سنجیدگی سے بات چیت کے لیے تیار ہو تو وہ نئے جوہری معاہدے کے سلسلے میں ممکنہ سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہے۔

یہ بات ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے اور واشنگٹن کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی کسی معاہدے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا مخلص ہے اور پابندیوں کے معاملے پر سنجیدہ پیش رفت چاہتا ہے تو ہمیں یقین ہے کہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ہم اپنے جوہری پروگرام سے متعلق دیگر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ پابندیوں پر بھی بامعنی مذاکرات ہوں۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ایران کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کی بات سے مراد ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنا ہے یا جزوی نرمی۔

یہ بھی پڑھیں : رجسٹریشن نہ کروانے والے رائیڈرز کے لیے بری خبر، بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی طرح 400 کلوگرام سے زائد انتہائی افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجنے پر آمادہ ہوگا، تو انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا اور مذاکرات کے دوران ہی پیش رفت واضح ہو سکے گی۔

Scroll to Top