اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دھرنا پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومت نے ہمارے کسی بھی مطالبے کو پورا نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات میں صرف یہ شامل تھے کہ بانی پی ٹی آئی کو ذاتی ڈاکٹر سے علاج کروانے اور فیملی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جو ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
سہیل آفریدی نے حکومت سے سوال کیا کہ ذاتی معالج کی اجازت نہ دے کر وہ کیا چھپا رہی ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مختلف مقامات پر عوام نے خود سے دھرنے دے رکھے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی یا اپوزیشن اتحاد نے پارلیمنٹ اور کے پی ہاؤس کے علاوہ کہیں دھرنے کی کال نہیں دی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں فیصلوں کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے، اور انہی کی کال پر وہ یہاں بیٹھے ہیں۔
سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں اور ان کا پی ٹی آئی یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے انہیں سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔





