دائر درخواست واضح ثبوت، عمران خان 17 سالہ سزا کی معطلی چاہتے ہیں، امریکی اخبار کا دعویٰ

دائر درخواست واضح ثبوت، عمران خان 17 سالہ سزا کی معطلی چاہتے ہیں، امریکی اخبار کا دعویٰ

امریکا کے معروف جریدے بلومبرگ کے صحافی طوبہ خان اور بلال حسین کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان آنکھوں کی سنگین بیماری کے باعث طبی بنیادوں پر فوری رہائی کے خواہاں ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جا چکی ہے، جس میں 17 سال قید کی سزا معطل کرنے کی استدعا بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خون کے لوتھڑے کے باعث عمران خان کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی متاثر ہو چکی ہے اور انہیں فوری طور پر اپنے ذاتی معالجین سے مکمل طبی معائنہ اور علاج کی ضرورت ہے۔

ان کے وکیل خالد یوسف چوہدری کا کہنا ہے کہ جیل حکام نے تاحال عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں کو مکمل رسائی فراہم نہیں کی، جبکہ ضمانت کی متعدد درخواستیں بھی طویل عرصے سے سماعت کی منتظر ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان کو دسمبر 2025 میں توشہ خانہ ریفرنس میں سرکاری اثاثوں کی مبینہ کم قیمت ظاہر کرنے کے مقدمے میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ ایک اور مقدمے میں بھی سزا کاٹ رہے ہیں، جس میں الزام ہے کہ انہوں نے ایک کاروباری شخصیت سے زمین حاصل کی اور اس کے بدلے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے برآمد ہونے والے 190 ملین پاؤنڈ کی رقم کی منتقلی میں سہولت فراہم کی۔

بلومبرگ کے مطابق گزشتہ ہفتے عدالت نے عمران خان کو طبی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد 15 فروری کو جیل میں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ بھی کیا۔ تاہم ان کی جماعت کے رہنماؤں نے سرکاری میڈیکل چیک اپ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے گا، جبکہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عدالت میں میڈیکل رپورٹ جمع کرانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم خبر کی اشاعت تک انہیں اسپتال منتقل نہیں کیا گیا تھا۔
دوسری جانب عمران خان کے بیٹے قاسم خان اور سلیمان خان، جو اپنی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ کے ہمراہ برطانیہ میں مقیم ہیں، نے اپنے والد کی قید کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قاسم خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ بینائی کا نقصان طویل تنہائی کی قید کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کو قانون کے مطابق تمام طبی اور قانونی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top