افغان طالبان میں خانہ جنگی: ہیبت اللہ اخونزادہ کو امارت اسلامی کے کمانڈرز کی دھمکیاں

کابل: افغانستان میں امارت اسلامی کی حکومت کے قیام کے بعد سے طالبان کے اندر خانہ جنگی کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔

کشیدگی کی بڑی وجہ حکومت کی بھارت اور اسرائیل کی طرف مبینہ جھکاؤ ہے، جس کے خلاف مختلف طالبان کمانڈرز کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے بیانات میں افغان طالبان کے کمانڈرز نے امیر ہیبت اللہ اخونزادہ کی قیادت پر کھلے عام سوال اٹھاتے ہوئے دھمکیاں دی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کشیدگی گزشتہ چند ماہ سے بڑھ رہی تھی، مگر اب طالبان کے بعض علاقائی کمانڈرز نے اسے کھلم کھلا جنگ کی شکل دے دی ہے۔

طالبان کے اندرونی اختلافات میں اضافہ افغانستان کے استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امارت اسلامی کے اعلیٰ قیادت کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت سے حکومت کے اندرونی محاذ پر بے یقینی پیدا ہو رہی ہے، جو ملک میں مزید تشدد اور عسکری جھڑپوں کا سبب بن سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں سے طالبان کے رہنماوں کی جانب سے جاری دھمکی آمیز بیانات نے ملک میں سیاسی اور عسکری صورتحال کو مزید نازک کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز اور بیانات میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان کے مختلف گروپ اپنے اپنے کمانڈروں کے ساتھ منسلک ہو کر ہیبت اللہ کی قیادت کو چیلنج کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی سے نہیں ہچکچائے گا، وزیر دفاع خواجہ آصف

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کے اندر یہ کشیدگی جاری رہی تو افغانستان میں امارت اسلامی کی حکومت کی ساکھ اور اس کے اندرونی کنٹرول پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

افغان طالبان کے رہنماؤں نے ابھی تک عوامی سطح پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس صورتحال کو کس طرح حل کریں گے، مگر ملکی سیاسی منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

یہ خانہ جنگی کے آثار عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام کی کوششیں طالبان کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

Scroll to Top