رہائی فورس پر مرکز کا سخت ردعمل، خواجہ آصف بول پڑے

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں مجوزہ رہائی فورس کا اعلان غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے، اور کسی صوبائی حکومت کو وفاق کے سوا الگ فورس بنانے کا اختیار حاصل نہیں۔

اپنے بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے اور وزارت اعلیٰ بچانے کے لیے رہائی فورس کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی فورس کا قیام آئین کے منافی ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اور وہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ فورس پُرامن جدوجہد کرے گی، اس کی باقاعدہ رجسٹریشن کرائی جائے گی اور عید کے بعد پشاور میں ارکان سے حلف لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ فورس کا باقاعدہ چین آف کمانڈ ہوگا اور قیادت کا تعین بانی پی ٹی آئی کریں گے۔

وزیر دفاع نے تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں بانی کے علاوہ ہر رہنما تنقید اور بدزبانی کا نشانہ بنتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : باجوڑ ملنگی چیک پوسٹ واقعہ، سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ، تین گاؤں کا بائیکاٹ

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت کے بجائے ایک کلٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں سیاسی رفاقت اور جمہوری رویوں کا فقدان ہے۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پارٹی کے اندر متعدد گروپ سرگرم ہیں اور قیادت کے مختلف دھڑوں میں مفادات کا ٹکراؤ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اپنی سیاسی بقا کے لیے موجودہ حالات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ حلقے بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کو اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق ملک کا مفاد ذاتی سیاسی مقاصد پر قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔

Scroll to Top