بھگوڑا عادل راجہ بھارت کے تلوے چاٹنے کے بعد افغانستان کی گود میں جا بیٹھا ہے اور پاکستان کے خلاف افغانی میڈیا پر ا ن کا ترجمان بن کر سامنے آیا ہے ۔
سابق یوٹیوبر اور متنازع بیانات کے لیے پہچانے جانے والے عادل راجہ بھارت کے بعد اب افغانستان میں پاکستان مخالف بیانیہ پیش کرنے لگے ہیں۔ افغان میڈیا پر نشر ہونے والے پروگرام میں وہ پاکستان کی حالیہ سرحد پار کارروائیوں پر سوالات اٹھاتے دکھائی دیے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
بھگوڑا عادل راجہ حکومت اور فوج کیخلاف زہر اگلنے سے باز نہیں آرہا اورپاکستان میں افغان درندوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں پر مذمت کے بجائے افغانستان میں ہونیوالی کارروائی پر افغان حکومت کا دفاع کررہا ہے ۔
افغانستان کی ایک خبر ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عادل راجہ کو تجزیہ کار کے طور پر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے فضائی حملوں کے تقریباً 72 گھنٹے بعد بھی مبینہ اہداف سے متعلق کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے اس بیان پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے سخت تنقید کی۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں کی گئی تھیں۔ وزارت کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں تھیں اور پاکستان کے پاس حتمی شواہد موجود ہیں کہ اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیاں افغانستان میں موجود خوارج قیادت اور ہینڈلرز کی ہدایت پر کی گئیں۔ باجوڑ اور بنوں میں دہشت گردی کے پیچھے بھی افغانستان میں موجود خوارج کی قیادت ملوث ہے۔
پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ عادل راجہ حکومت اور فوج کے خلاف زہر اگلنے سے باز نہیں آ رہے اور پاکستان میں افغان دہشت گردوں کے حملوں پر مذمت کے بجائے افغانستان میں ہونے والی کارروائیوں پر افغان حکومت کا دفاع کر رہے ہیں۔
خبر میں مزید تفصیل شامل کی جارہی ہے ۔





