پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان طالبان رجیم سے منسلک مختلف سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے مسلسل فیک نیوز پھیلانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کی مؤثر اور بھرپور کارروائیوں کے بعد زمینی صورتحال میں واضح دباؤ کا سامنا کرنے والی افغان طالبان رجیم نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن مہم تیز کر دی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جب زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی تائید نہ کر سکے تو جھوٹے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے جعلی اطلاعات، من گھڑت دعوے اور غیر مصدقہ ویڈیوز کا سہارا لیا گیا۔ حیران کن طور پر یہ مہم صرف غیر سرکاری اکاؤنٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض سرکاری ہینڈلز اور ترجمان بھی اس پراپیگنڈا مہم کا حصہ بنتے دکھائی دیے۔
تازہ دعوؤں میں یہ کہا گیا کہ دو پاکستانی لڑاکا طیارے مار گرائے گئے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جس کے باعث تجزیہ کاروں نے ان بیانات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے دعوے نہ صرف حقیقت سے بعید ہیں بلکہ عالمی سطح پر ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق کسی بھی کشیدگی کا مستقل حل صرف ذمہ دارانہ طرز عمل، شدت پسند عناصر سے لاتعلقی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔
موجودہ صورتحال میں اطلاعاتی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے، جہاں عوام کو غیر مصدقہ خبروں سے محتاط رہنے اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیک نیوز وقتی طور پر بیانیہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں سچائی ہی غالب آتی ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران افغان حکومت کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا ایک متنازع اور غیر مصدقہ دعویٰ بعد ازاں خاموشی سے حذف کر دیا گیا۔تنقید اور حقائق سامنے آنے کے بعد سرکاری اکاؤنٹ نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی





