پاکستانی چاول کی برآمدات نصف تک کم ہو گئیں

اسلام آباد: پاکستانی چاول کی برآمدات میں بڑی کمی آئی ہے، جس کا اعتراف وزارت تجارت نے پارلیمنٹ میں کیا ہے۔

جولائی سے دسمبر 2025 تک پاکستان کی چاول کی برآمدات 1.83 ارب ڈالر سے کم ہو کر 0.97 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ چاول کی برآمدات میں نصف کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کی باسمتی چاول کی فی ٹن قیمت 1050 سے 1275 ڈالر تک فروخت ہو رہی ہے، جب کہ بھارت اسی قسم کے باسمتی چاول 900 ڈالر فی ٹن کے حساب سے فروخت کر رہا ہے۔ اس قیمتوں کے فرق کی وجہ سے پاکستان کے چاول کی عالمی مارکیٹ میں مسابقت متاثر ہو رہی ہے، جس سے پاکستانی چاول کی برآمدات میں کمی آئی ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق چاول کی مقدار میں 36.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق باسمتی چاول کی برآمدات مالیت کے لحاظ سے 32.3 فیصد کم ہوئی ہیں، جب کہ مقدار کے لحاظ سے یہ کمی 33.8 فیصد رہی۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت کی مارکیٹ میں واپسی اور کم قیمت پر باسمتی چاول کی فروخت کی وجہ سے پاکستان کی چاول کی برآمدات کم ہو گئی ہیں۔ بھارت کی جانب سے عالمی منڈی میں کم قیمت باسمتی چاول فروخت کرنے سے چاول کی رسد بڑھ گئی ہے، جس سے پاکستانی چاول کی مسابقت متاثر ہوئی ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق پاکستانی باسمتی چاول کی عالمی مارکیٹ میں مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں ڈی ایل ٹی ڈیل اسکیم پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ چاول کی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : نادرا کا خواتین کی رجسٹریشن کے متعلق بڑا اعلان

مزید برآںڈیوٹی ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز اسکیم کے تحت ایکسپورٹرز کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ چاول کی برآمدات میں اضافے کے امکانات کو بڑھایا جا سکے۔

وزارت تجارت کے مطابق حکومت مقامی ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے برآمد کنندگان کو ری فنڈ دینے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے، تاکہ چاول کے برآمد کنندگان کے لیے مزید معاونت فراہم کی جا سکے۔ اس حکومتی پالیسی کا مقصد چاول کی برآمدات کو فروغ دینا اور عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کی مسابقت کو بہتر بنانا ہے۔

پاکستان کی چاول کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں فرق، بھارت کی مارکیٹ میں واپسی اور کم قیمت پر چاول کی فروخت ہے۔

وزارت تجارت اس کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں ایکسپورٹرز کو ریلیف فراہم کرنا اور چاول کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے نئی اسکیموں پر عمل درآمد شامل ہے۔

Scroll to Top