پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی کابینہ کا 49واں اجلاس آج پیر 9 مارچ کو دوپہر دو بجے سول سیکرٹریٹ پشاور کے کابینہ روم میں طلب کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں صوبے کی ترقی، شہری انفراسٹرکچر، توانائی، صحت، تعلیم اور سماجی بہبود سے متعلق متعدد اہم منصوبوں اور پالیسی امور پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں پشاور میں فارنزک سائنس لیبارٹری کے قیام کے منصوبے کی مالی اعانت صوبائی خزانے سے کرنے کی منظوری زیر غور آئے گی۔
اس منصوبے کا مقصد جرائم کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کو بہتر بنانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ پشاور شہر کی ترقی اور شہری سہولتوں کی بہتری کے لیے پشاور ریویٹالائزیشن پلان پر بھی کابینہ کو بریفنگ دی جائے گی۔
اجلاس میں مردان کے شیخ ملتون ٹاؤن شپ کی بہتری اور ترقی کے منصوبے کے علاوہ نوشہرہ میں گلوبل ایڈاپٹیشن فنڈ کی مالی معاونت سے واٹر ہارویسٹنگ یونٹس کی تنصیب کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا جس کا مقصد پانی کے وسائل کے بہتر استعمال اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نادرا کا خواتین کی رجسٹریشن کے متعلق بڑا اعلان
مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت نکاح نامہ فارم میں موجود بعض خامیوں کو دور کرنے کے لیے مجوزہ ترامیم بھی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
شہری ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ کو نادرن بائی پاس سے ملانے والی لنک روڈ کی فزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیزائننگ پر غور کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ پشاور کی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کے اہم مقامات رامداس چونگی اور لاہوری چوک پر انڈر پاسز کی تعمیر کے منصوبوں پر بھی گفتگو کی جائے گی۔
پشاور شہر میں انفراسٹرکچر کی بہتری، یادگاروں کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس اور گرین اسپیسز کے قیام کے منصوبے کابینہ کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔
آبپاشی کے شعبے میں صوبے کے اہم آبی گزرگاہوں کی صفائی اور ڈی سلٹنگ کے منصوبے پر بھی غور کیا جائے گا۔ اسی طرح محکمہ خزانہ کی جانب سے ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ رولز 2024 میں ترامیم کی منظوری بھی متوقع ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ کے محکمہ کی جانب سے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کی طرف سے اشتہارات کی بقایا ادائیگیوں سے متعلق خط بھی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے قیام کے بند منصوبے کی واجبات کی ادائیگی کے لیے نان اے ڈی پی اسکیم کی منظوری بھی زیر غور آئے گی۔
قانون و انصاف کے شعبے میں پشاور اور ایبٹ آباد میں ڈبل ڈوکیٹ کورٹس کے پائلٹ منصوبے کے نفاذ کی تجویز بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
اسی طرح ضلع دیر لوئر کے علاقے گڑی کس تحصیل منڈا میں 100 کنال سرکاری اراضی تیمراگرہ جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے منتقل کرنے کی منظوری بھی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : مردان میں ڈینگی کے خطرے سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات تیز کر دیے گئے
محکمہ صحت کی جانب سے پرنسپل میڈیکل آفیسرز کی نئی تعیناتیوں، ڈی ایچ کیو اسپتال ایبٹ آباد کو کیٹیگری اے میں اپ گریڈ کرنے کے منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں جدید طبی سہولتوں کے قیام کے لیے بجٹ کی فراہمی کی تجویز بھی زیر غور آئے گی۔
ایبٹ آباد کے ڈی ایچ کیو اسپتال کو کیٹیگری اے میں اپ گریڈ کرنے کے منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری، ایک مریض کی فوری طبی امداد کے لیے مالی معاونت کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
توانائی کے شعبے میں ضم شدہ اضلاع کے ایک لاکھ بیس ہزار گھروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔
مدین اور گبرال کالام ہائیڈرو پاور منصوبوں کو آئی جی سی ای پی منصوبہ بندی سے خارج کرنے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کے حوالے سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کلین انرجی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجرا پر بھی غور کیا جائے گا۔





