صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایران کے خلاف جنگ خاتمے کے قریب ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ایک انتہائی اہم بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

امریکی ٹی وی سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی افواج اپنے طے شدہ اہداف کے حصول میں وقت سے کافی آگے چل رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے انٹرویو کے اہم نکات میں امریکی صدر نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے درج ذیل دعوے کیے ہیںٹرمپ کے مطابق ابتدائی اندازہ تھا کہ یہ جنگ 4 سے 5 ہفتے چلے گی، لیکن ہم نے بہت کم وقت میں بڑے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کیخلاف کارروائی اپنی آخری حد تک پہنچ گئی، ٹرمپ

صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور مواصلاتی نظام (Communication System) اب فعال نہیں رہے اور ان کی فوجی طاقت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے میزائل ذخائر تباہ ہو چکے ہیں اور ڈرون بنانے والی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا کر ان کی دفاعی صلاحیت ختم کر دی گئی ہے۔

ٹرمپ کے الفاظ میں، “فوجی اعتبار سے اب ایران کے پاس (مقابلے کے لیے) کچھ باقی نہیں بچا۔” جنگی مہم کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی بڑی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ کریملن کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ایران کے خلاف جاری جنگ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

جی 7 ممالک کی جانب سے بھی اس صورتحال پر مشاورت جاری ہے تاکہ جنگ کے بعد کے منظرنامے اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو سنبھالا جا سکے۔ دفاعی ماہرین صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ‘نفسیاتی برتری’ قرار دے رہے ہیں، تاہم زمین پر صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے۔

ایرانی حکام (جیسے عباس عراقچی) اب بھی “سرپرائزز” کی بات کر رہے ہیں، جو صدر ٹرمپ کے دعووں کے برعکس ایک طویل مزاحمت کا اشارہ ہے۔ اگرچہ ٹرمپ اسے کامیابی قرار دے رہے ہیں، لیکن روس اور جی 7 ممالک کی مداخلت ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اس تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی نئی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جائیگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

واشنگٹن میں یہ تاثر عام ہے کہ ‘آپریشن ایپک فیوری’ اپنے آخری مراحل میں ہے، لیکن تہران میں نئی قیادت کا عزم اس دعوے کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا ردِعمل:
“ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کر کے بڑی غلطی کی”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ہونے والی حالیہ قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور سپریم لیڈر انتخاب پر کڑی تنقید کی ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کو تہران کی ایک “بڑی اسٹریٹجک غلطی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم ایران کے لیے مزید عالمی تنہائی اور سخت حالات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب “آپریشن ایپک فیوری” کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین دفاعی و معاشی اقدامات کر رہے ہیں۔

Scroll to Top