افغانستان میں پاک فضائیہ نے کابل، خوست، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں کے زیرِ انتظام اہم تربیتی مراکز کو بمباری کے ذریعے نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق کابل کے قصابہ علاقے میں طالبان کے عسکری تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا، جہاں بڑی تعداد میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق یہ مراکز طالبان رجیم نے کالعدم دہشت گرد تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، بی ایل اے، گل بہادر گروپ اور دیگر کے اہم کمانڈرز اور جنگجوؤں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے تھے۔
🚨🚨پاک فوج کا دہشت گردی کے خلاف کاری وار! ٹی ٹی اے (TTA) کا اہم ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ pic.twitter.com/hM8q8f6Yfx
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) March 13, 2026
یہ مراکز پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے بھی استعمال ہو رہے تھے۔ قندھار میں حملوں کے بعد قندھار ایئرپورٹ اور قریبی عسکری تنصیبات میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا دھماکوں سے گونج اٹھی۔
دارالحکومت کابل میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں افواجِ پاکستان نے پل چرخی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے نتیجے میں طالبان کے متعدد ٹھکانے شدید نقصان کا شکار ہوئے اور کئی دہشت گرد ہلاک و زخمی ہوئے۔
🚨🚨کابل لرز اٹھا! پاک فضائیہ کی بڑی کارروائی، پل چرخی بریگیڈ ہیڈکوارٹر راکھ کا ڈھیر! pic.twitter.com/W1lsG5N8j5
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) March 12, 2026
پاک فضائیہ کے حملوں میں طالبان کے متعدد ٹھکانے اور عسکری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔ مقامی ذرائع کی شیئر کردہ ویڈیوز میں تباہ شدہ ٹھکانوں کے واضح مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ پکتیا کے علاقے چمکنی میں طالبان کے فوجی کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کیمپ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں : کابل میں پاک فضائیہ کی کارروائی جاری، طالبان اور دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ
کابل میں کارروائی جاری ہے اور شہر میں دھماکے اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ پاک فضائیہ کے طیارے آسمان پر نگرانی کر رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق، شہریوں اور دیگر رہائشی علاقوں میں فی الحال کسی قسم کی بڑی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔





