سوئٹزرلینڈ نے امریکا کی فوجی پروازوں کو فضائی راہداری دینے سے صاف انکار کر دیا

سوئٹزرلینڈ نے امریکا کی فوجی پروازوں کو فضائی راہداری دینے سے صاف انکار کر دیا

سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سوئس حکومت کے مطابق ایران پر حملوں میں ملوث امریکی طیاروں کو فضائی راہداری فراہم نہیں کی جائے گی۔

سوئس حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کی دیرینہ غیر جانبدار پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق سوئٹزرلینڈ کسی بھی ایسی فوجی سرگرمی کا حصہ نہیں بن سکتا جو کسی تنازعے کو مزید بڑھانے کا سبب بنے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں کو ایران پر حملوں کے تناظر میں سوئس فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی اور طبی نوعیت کی پروازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ زخمیوں کی منتقلی اور دیگر غیر جنگی پروازیں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

دوسری جانب امریکا میں بھی اس معاملے پر سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو خطے میں جنگی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خوفناک اور غیر مقبول جنگ میں دھکیل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب خود نیتن یاہو کو بھی یہ معلوم نہیں کہ اس صورتحال سے کیسے نکلا جائے۔

ماہرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ کا یہ فیصلہ اس کی روایتی غیر جانبدار خارجہ پالیسی کا عکاس ہے، جس کے تحت وہ بین الاقوامی تنازعات میں براہ راست فوجی کردار سے گریز کرتا ہے۔

Scroll to Top