واشنگٹن: ایران کے حوالے سے امریکی جنگی حکمت عملی پر ٹرمپ انتظامیہ کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے، جب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔
غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جو کینٹ نے کہا کہ ایران سے فوری کوئی خطرہ موجود نہیں تھا، اور یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور لابی کے دباؤ پر شروع کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے 11 مرتبہ جنگی خدمات انجام دیں اور اپنی اہلیہ کو اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ میں کھویا، وہ نئی نسل کو ایسی جنگ میں بھیجنے کی حمایت نہیں کر سکتے جو امریکی عوام کے مفاد میں نہ ہو اور جس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔
جو کینٹ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ کے طور پر دہشت گردی کے خطرات کا تجزیہ کرنے اور ان کا پتہ لگانے والی ایجنسی کے انچارج تھے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کر دی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں شامل ہونے سے قبل جو کینٹ نے ریاست واشنگٹن میں کانگریس کے لیے دو ناکام مہم چلائی اور فوج میں گرین بیریٹ کے طور پر 11 تعیناتیوں کا تجربہ حاصل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے سی آئی اے میں بھی خدمات انجام دیں۔
واضح رہے کہ جو کینٹ کی اہلیہ شینن کینٹ 2019 میں شام میں خودکش بم دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں، جس کے بعد انہوں نے جنگی پالیسیوں پر تنقیدی موقف اختیار کرنا شروع کیا۔





