قطر نے ایرانی سفارت خانے کے ملٹری اور سکیورٹی اتاشیوں اور ان کے عملے کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملٹری اور سکیورٹی اتاشیوں کے ساتھ ان کے عملے کو بھی ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر قطر چھوڑ دیں۔
یہ بھی پڑھیں : شہریوں کے لیے اہم اطلاع: نادرا کے دفاتر چار دن بند رہیں گے
وزارت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایران کی بار بار ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔
قطر کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا جس دوران ایک ایرانی میزائل دوحہ کے شمال مشرق میں واقع راس لفان انڈسٹریل سٹی سے ٹکرا گیا۔
یہ وسیع صنعتی کمپلیکس دنیا کی سب سے بڑی مائع قدرتی گیس (LNG) پیدا کرنے کی سہولت رکھتا ہے۔
قطر انرجی نے تصدیق کی کہ اس حملے سے “بڑا نقصان” ہوا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع، نوٹم جاری
سول ڈیفنس کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے موقع پر پہنچ گئیں۔ یہ تنصیب عام طور پر دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی پیدا کرتی ہے۔
یہ پیشرفت دو ممالک کے درمیان اب تک کی سب سے شدید دراڑ کی نشاندہی کرتی ہیں، جو دہائیوں سے خلیج میں مضبوط شراکت داری رکھتے تھے اور مشترکہ گیس فیلڈ کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
اسرائیل، امریکا کی ایران سے جنگ کے دوران قطر سے سب سے زیادہ سفارتی کوششیں کی لیکن ایران کی جانب سے ہر روز ہی قطر سمیت خلیجی ممالک پر تواتر سے حملے کئے جا رہے ہیں۔





