تہران: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت پر برطانوی اخبار نے اسے ایران کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دے دیا ہے، جسے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی زیادہ سنگین بتایا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق علی لاریجانی سیاست کے میدان کے تجربہ کار رہنما تھے اور نہ صرف ایران بلکہ روس، چین اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی ان کا ذاتی اثر و رسوخ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا۔
برطانوی اخبار نے لکھا کہ پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد علی لاریجانی کی موت ایران کے لیے سب سے بڑا سانحہ ہے۔
اخبار میں یورپی کونسل برائے بین الاقوامی تعلقات میں ایرانی امور کے ماہر ایلی جیرن مائے کے انٹرویو کو بھی شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کے لیے ایران جنگ بے سود، عالمی سطح پر اقتصادی مشکلات میں اضافہ: مشاہد حسین
جیرن مائے نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی پوری کوشش ہے کہ جنگ بندی اور ایران سے بات چیت کے تمام ممکنہ راستے بند کر دیے جائیں، اور علی لاریجانی ہی وہ شخصیت ہو سکتے تھے جو جنگ بندی اور مذاکرات کو ممکن بنا سکتے تھے۔
علی لاریجانی کی شہادت سے ایران کی داخلی اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، اور موجودہ کشیدگی میں مذاکرات کے امکانات مزید محدود ہو سکتے ہیں۔





