امریکا نے ایران کے خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد پابندیوں کو 30 دن کے لیے عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی تیل منڈی میں استحکام لانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسینٹ کے مطابق یہ رعایت صرف اس تیل پر لاگو ہوگی جو پہلے ہی ترسیل کے عمل میں ہے، جبکہ نئے آرڈرز اس سہولت سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور رسد میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جنہیں وہ امریکا اور اسرائیل سے منسلک قرار دیتا ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے عالمی معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکا کا حالیہ اقدام تیل کی سپلائی کو جزوی طور پر بحال رکھنے اور قیمتوں میں استحکام لانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





