مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے 27 ویں روز بھی جنگ بندی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور امریکہ و ایران کے متضاد بیانات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔
جمعرات کے روز عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں یکدم 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمت 102 ڈالر سے بڑھ کر 108 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
اگرچہ ایران نے خیر سگالی کے طور پر کئی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے، تاہم سفارتی سطح پر غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
امریکی صدر نے آج ایک بار پھر ایران کو سخت لہجے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تہران کے لیے “آخری موقع” ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی گروپ ایم یو ایف جی کے مطابق جنگی حالات اور مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات نے عالمی منڈی میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے جس کا براہِ راست اثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کو تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے لیکن تاحال باقاعدہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے جس سے توانائی کے عالمی بحران کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں ہونے والا یہ حالیہ اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا کر سکتا ہے، بالخصوص ان ممالک کے لیے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔





