امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ نئی ایران رجیم کے صدرنے امریکہ سے جنگ بندی کی باقاعدہ درخواست کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت میں تبدیلی کا مثبت تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے نئے صدر سابقہ حکمرانوں کے مقابلے میں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں اس لیے امریکہ جنگ بندی کی اس درخواست پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے سخت شرائط عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس درخواست پر تب ہی پیش رفت ہوگی جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی اور وہاں بحری آمد و رفت کے لیے حالات محفوظ ہو جائیں گے۔
اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران جنگ سے باہر نکل جائے گا اور ممکنہ طور پر اس سے پہلے ہی کوئی بڑی ڈیل طے پا سکتی ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی (رجیم چینج) نہیں بلکہ صرف یہ یقینی بنانا تھا کہ ایران ایٹمی بم تیار نہ کر سکے۔ ا
نہوں نے یورپی ممالک اور چین کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر فرانس یا کسی اور ملک کو تیل و گیس چاہیے تو وہ آبنائے ہرمز سے جا کر خود لے لیں، اب امریکہ ان کے بحری جہازوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں اٹھائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ چین سمیت دیگر ممالک کو اپنے مفادات کا دفاع اب خود کرنا ہوگا۔





