یادداشت کمزور کرنے والی وہ وجوہات جن سے ہم سب ناواقف ہیں

طبی ماہرین کے مطابق عمر کے ساتھ یادداشت کا تھوڑا بہت متاثر ہونا فطری ہے لیکن ہماری کچھ روزمرہ کی عادات ایسی ہیں جو ہر عمر کے فرد کی ذہنی صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی آپ کی نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت کو 40 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ نیند کے دوران ہمارا دماغ یادوں کو منظم کرتا ہے، اگر نیند پوری نہ ہو تو یادوں کو ذہن میں محفوظ کرنا اور ضرورت پڑنے پر دہرانا مشکل ہو جاتا ہے۔

ایک وقت میں کئی کام کرنے کی عادت ہمیں کسی ایک چیز پر توجہ نہیں دینے دیتی، جس سے ہم چیزیں بھولنے لگتے ہیں۔ اسی طرح جسمانی طور پر متحرک نہ رہنا بھی نقصان دہ ہے۔ ورزش سے دماغ کو خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جبکہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا یادداشت کے حصوں کو کمزور کر دیتا ہے۔

کچھ مخصوص ادویات جیسے الرجی، بلڈ پریشر یا سکون آور دوائیں بھی یادداشت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی سے دماغ کے نئے خلیات بننے کا عمل رک جاتا ہے جس سے انسان بھلکڑ بننے لگتا ہے۔

اگر آپ کی خوراک میں سبزیاں، مچھلی، بیریز اور خشک میوہ جات شامل نہیں ہیں تو آپ کا دماغ سست ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈپریشن، انزائٹی اور ذہنی تناؤ بھی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتے ہیں جس سے چھوٹی چھوٹی باتیں یاد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یادداشت کو بہتر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دماغ کو مسلسل متحرک رکھا جائے۔ مطالعہ کرنا، نئی چیزیں سیکھنا یا ذہنی مشقوں والی گیمز کھیلنا دماغ کو ہر عمر میں جوان رکھتا ہے۔

نوٹ: یہ معلومات طبی جریدوں میں شائع مضمون پر مبنی ہے، اس حوالے سے قارئین اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔

Scroll to Top