گردوں کی بیماریوں سے بچاؤ کا سب سے آسان اور سائنسی طریقہ

آسٹریلیا: ایک نئی طبی تحقیق میں دریافت ہوا ہے کہ ہفتے میں دو بار چربی والی مچھلی کھانے سے گردوں کے دائمی امراض کے خطرے میں واضح کمی آ سکتی ہے، جبکہ اس اہم عضو کے افعال بھی عمر کے ساتھ بہتر رہ سکتے ہیں۔

یہ تحقیق جارج انسٹیٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اور نیو ساوتھ ویلز یونیورسٹی کے مشترکہ مطالعے کا نتیجہ ہے۔ محققین نے کہا کہ مچھلی میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز گردوں کے افعال کو مستحکم رکھنے اور خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، جبکہ پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والے اومیگا 3 اس حوالے سے مؤثر نہیں تھے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں تقریباً 70 کروڑ افراد گردوں کے دائمی امراض کا شکار ہیں، جو اکثر کڈنی فیلیئر اور جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صارفین کے لیے بڑی خوشخبری: آسان اقساط پر اسمارٹ فون ابھی حاصل کریں

ہفتے میں دو بار چربی والی مچھلی کھانے سے گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ 8 سے 13 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

خون میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی زیادہ مقدار گردوں کے جان لیوا امراض کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔

گردوں کے افعال میں عمر کے ساتھ آنے والی تنزلی کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے۔

یہ فیٹی ایسڈز خاص طور پر ٹھنڈے پانیوں میں پائی جانے والی مچھلیوں میں زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

محققین نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ کونسی مخصوص مچھلی زیادہ مؤثر ہے، تاہم ہفتے میں دو بار مچھلی کھانے کی عادت صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

یہ بھی پڑھیں : میٹرک کے سالانہ امتحانات ملتوی، طلبہ کے لیے بڑی خبر آگئی

اس سے قبل جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں بھی اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کے گردوں کے افعال پر مثبت اثرات دیکھے گئے تھے، تاہم یہ پہلی تحقیق ہے جس میں انسانوں پر اس کے اثرات کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق میں 12 ممالک کی 19 تحقیقی رپورٹس کے نتائج کو شامل کیا گیا، اور عمر، جنس، جسمانی وزن، تمباکو نوشی، الکحل کے استعمال، جسمانی سرگرمیوں اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھا گیا۔ تحقیق کے نتائج جرنل بی ایم جے میں شائع ہوئے ہیں۔

محققین نے کہا کہ یہ دریافت صحت کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور لوگوں کو ہفتے میں دو بار چربی والی مچھلی کھانے کی ترغیب دی جا سکتی ہے تاکہ گردوں کے امراض سے بچاؤ ممکن ہو۔

Scroll to Top