پیٹرول مزید مہنگا ہونے کا خدشہ، قیمتیں 400 روپے کی حد عبور کر سکتی ہیں

پیٹرول مزید مہنگا ہونے کا خدشہ، قیمتیں 400 روپے کی حد عبور کر سکتی ہیں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے عوامی مشکلات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 110 ڈالر کی سطح عبور کرتے ہوئے 111.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل بھی اضافے کے بعد 100.03 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں اس تیزی کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بتائی جا رہی ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہ راست مقامی مارکیٹ کو متاثر کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ رجحان برقرار رہنے کی صورت میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر کی تاریخی حد عبور کر سکتی ہے، جس سے عوام کو ایک نئے معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اسی طرح برقرار رہیں تو مئی کے آغاز میں مہنگائی کا ایک اور شدید جھٹکا متوقع ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی پہلے ہی سالانہ ہدف کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم اس میں مزید اضافے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی قیمت 393 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا، جبکہ نئی ممکنہ قیمتوں سے موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top