کراچی : سندھ حکومت نے سماجی تحفظ کے پروگرام کے تحت اہم فیصلے کرتے ہوئے پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کے لیے سہ ماہی 3 ہزار روپے مالی امداد دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے بورڈ کے تیسرے اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبے میں سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں 8 لاکھ 85 ہزار بچوں اور دیہی خواتین کے لیے نئی نقد امداد کی منظوری دی گئی، جبکہ ابتدائی بچپن کی نشوونما کے لیے 14 ارب روپے مالیت کے بڑے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔
پروگرام کے تحت بچوں کی پیدائش سے پانچ سال تک سہ ماہی بنیادوں پر 3 ہزار روپے دیے جائیں گے، جبکہ دیہی خواتین کو غیر پیداواری عرصے کے دوران ماہانہ مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت بچوں کی نشوونما کی باقاعدہ نگرانی، بہتر غذائیت اور تعلیمی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ دیہی خواتین کو مالی تحفظ فراہم کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ استحکام فنڈ کا مقصد دیہی خواتین کو قرضوں کے بوجھ اور غذائی عدم تحفظ سے بچانا ہے۔ بریفنگ کے مطابق ممتا پروگرام کو صوبے کے 22 اضلاع تک فعال کیا جا چکا ہے، جس سے 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں کے لیے مجموعی طور پر 56 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فائیو جی سروسز کے آغاز کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل، صارفین پُرجوش
بورڈ نے ادائیگیوں کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے نیا ہائبرڈ پیمنٹ ماڈل بھی منظور کیا، جبکہ حمل اور کم عمر بچوں کے لیے مکمل اور جزوی ادائیگیوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں کراچی اور حیدرآباد کے پسماندہ علاقوں تک پروگرام کی توسیع، مزید 7 اضلاع کو ممتا پروگرام میں شامل کرنے اور ضلعی و تعلقہ اسپتالوں میں “ممتا ڈیسک” قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
مزید برآں شفافیت کے لیے آڈٹ، انسانی حقوق، قانونی اور تحقیقاتی کمیٹیوں کے قیام کی منظوری دی گئی، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 2.29 ارب روپے کا بجٹ بھی منظور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت کا مقصد کمزور طبقات کو بااختیار بنانا ہے اور صحت، غذائیت اور مالی استحکام کو یکجا کر کے صوبے کے مستقبل میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔





