ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پوپ لیو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران پر مبینہ حملوں اور عالمی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گفتگو کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف مبینہ امریکی و اسرائیلی اقدامات زیرِ بحث آئے۔ پوپ لیو نے ایران پر کیے گئے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوپ لیو کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے خلاف جارحیت کے معاملے پر منصفانہ اور اخلاقی مؤقف اختیار کیا ہے۔
صدر پزشکیان نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات ایران کی تاریخی تہذیب کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتے ہیں، جو جارحانہ سوچ اور طاقت کے غلط استعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔





