کوہستان میں ایک کلرک سے 1ارب 30 کروڑنکل آئے،مگرکیسے؟ابوبکر قسام کے کالم میں اہم انکشافات

ابوبکرقسام
بچپن میں ہم جب کسی مداری کا تماشا دیکھتے تھے جو خالی رومال سے کبوتر یا انڈے نکال لیتا تھا، تو ہمیں لگتا تھا کہ اس سے بڑا جادوگر کوئی نہیں۔ لیکن ہوش سنبھالا تو معلوم ہوا کہ اصل مداری تو ہمارے سرکاری محکموں کے بابو ہیں۔ سڑک کنارے بیٹھا مداری تو صرف کبوتر نکالتا ہے، ہمارے ہاں ایک سرکاری کلرک گھر میں پڑی پینٹ کی بالٹیوں سے کروڑوں روپے کی نقدی، غیر ملکی کرنسی اور درجنوں پراپرٹی کی فائلیں نکال لیتا ہے۔

یہ کوئی الف لیلہ کی کہانی نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تاریخ کے سب سے بڑے اور شرمناک ‘کوہستان میگا کرپشن سکینڈل’ کی تازہ ترین قسط ہے۔ اپر کوہستان، جہاں کا غریب آج بھی پینے کے صاف پانی، سڑک اور بنیادی صحت کو ترستا ہے، اس ضلعے کا سالانہ ترقیاتی بجٹ بمشکل پچاس کروڑ سے ڈیڑھ ارب روپے ہوتا ہے۔ لیکن مجال ہے جو ہماری بیوروکریسی کے حوصلے کبھی پست ہوئے ہوں۔ 2018 سے 2024 کے درمیان اس غریب ضلعے کے نام پر صوبائی خزانے سے پورے 40 ارب روپے کی ایسی شاندار صفائی پھیری گئی کہ شاید شیطان بھی ان کی شاگردی اختیار کر لے۔

اس ساری واردات کا ماسٹر مائنڈ کوئی بڑا وزیر یا سیکرٹری نہیں، بلکہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) محکمے کا ایک ‘ہیڈ کلرک’ قیصر اقبال تھا۔ نام بے شک کلرک تھا مگر کام اس کے بل گیٹس اور ایلون مسک والے تھے۔

اس نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے افسر شفیق الرحمٰن اور مقامی نیشنل بینک کے عملے کے ساتھ مل کر ایسی کمال کی ‘جوائنٹ وینچر’ بنائی کہ “سیکیورٹی اینڈ ڈپازٹ ورکس” کے سرکاری اکاؤنٹ (KP 10113) سے 1293 جعلی چیک پاس کروا لیے۔ نہ کوئی سڑک بنی، نہ کوئی پل، بس ہوا میں کاغذ لہرائے گئے اور 50 سے زائد جعلی اکاؤنٹس میں اربوں روپے منتقل ہو گئے۔

اس کہانی کا سب سے دلچسپ اور مزاحیہ کردار وہ ڈمپر چلانے والا ڈرائیور ہے جس کے نجی اکاؤنٹ میں اچانک 3 ارب روپے آ گرے۔ ذرا تصور کریں، ایک غریب ڈرائیور جو صبح اٹھ کر ڈمپر میں بجری لوڈ کرتا ہے، اس کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے پڑے تھے کہ وہ اپنی پوری ٹرانسپورٹ کمپنی کھڑی کر سکتا تھا۔ یہ دراصل وہ ‘بے نامی دار’ فرنٹ مین تھے جنہیں ‘ایم ایس کوہستان ایسوسی ایٹس’ جیسی جعلی کمپنیوں کے نام پر کھڑا کیا گیا تاکہ لوٹ مار کا یہ پیسہ ہضم کیا جا سکے۔

پھر آیا اکتوبر 2025، جب نیب نے قیصر اقبال اور اس کی بیگم گل فرین کے گھر چھاپہ مارا۔ چھاپہ مارنے والوں کی آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ 109 لگژری جائیدادوں کے کاغذات، سونا، اور پینٹ کی بالٹیوں میں چھپائے گئے 20 کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے۔

لیکن ہمارے ہاں انصاف کا نظام اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ 2026 کا سال شروع ہوتے ہی ‘پلی بارگین’ (Plea Bargain) نامی سرکاری لانڈری کا آغاز ہوا۔ پلی بارگین کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے ایک پوری بھینس چرائی ہے، تو اس کی دم اور کھر ریاست کو واپس کر دیں، اور آپ غسل فرما کر دوبارہ حاجی صاحب بن کر معاشرے میں گھوم سکتے ہیں۔

پشاور کی احتساب عدالتوں میں ان جعلی ٹھیکیداروں نے دھڑا دھڑ اربوں روپے کی پلی بارگین شروع کر دی۔ جنوری میں ممتاز خان نے 4 ارب، مارچ میں سران زیب نے 3 کروڑ 80 لاکھ، اور اپریل میں ایک اور ٹھیکیدار نے 3 ارب روپے واپس کر کے جان چھڑائی۔ فروری میں کلرک بادشاہ کے رشتہ داروں اور ڈرائیوروں کی گاڑیاں اور جائیدادیں بھی ضبط ہوئیں، جنہوں نے شرماتے ہوئے حلف نامے دے دیے کہ جی یہ سب اسی چوری کے مال سے بنا تھا۔

اور پھر ہمارے نظامِ عدل کی شفقت اور تکنیکی باریکیاں ملاحظہ فرمائیں۔ فروری کے آخر میں کلرک کی بیگم کو ہائی کورٹ سے یہ کہہ کر ضمانت مل گئی کہ وہ ایک ‘ماں اور استانی’ ہے اور اس کا کوئی پرانا کرمنل ریکارڈ نہیں۔ (خدا جانے وہ سکول میں بچوں کو کیا پڑھاتی ہوں گی، شاید 40 ارب گننے کا شارٹ کٹ؟) اور تو اور، اپریل تک آتے آتے کچھ بینک اکاؤنٹس اور جائیدادیں منجمد کرنے کے ابتدائی احکامات بھی تکنیکی بنیادوں پر ریورس ہونا شروع ہو گئے، جس سے نیب کی ریکوری کے عمل میں مزید پیچیدگیاں آ گئیں۔

اس ملک کا اصل المیہ یہ نہیں کہ یہاں چوری ہوتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ چوری کو ایک باقاعدہ سسٹم اور پروٹوکول کے تحت کیا جاتا ہے، اور پھر اسی سسٹم کے سوراخوں سے مجرم صاف بچ نکلتے ہیں۔ جب ایک معمولی کلرک ملی بھگت سے 40 ارب روپے ہضم کر سکتا ہے، تو سوچیں کہ جو مگرمچھ سمندروں کی گہرائیوں میں بیٹھے ہیں، ان کی خوراک کیا ہوگی؟ اس ملک کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں، ہمارے اپنے محکمے اور بابو ہی اس مٹی کو چاٹنے کے لیے کافی ہیں۔

انہی خرابیوں سے تو گزرا ہے کارواں اپنا
رہزنوں نے نہیں لوٹا، پاسبانوں نے لوٹا ہے

Scroll to Top