شعیب ملک نے پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانے کیلئے ڈومیسٹک ریڈ بال کرکٹ کے نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ماہر ریڈ بال کھلاڑیوں کیلئے خصوصی مالی مراعات اور بہتر سینٹرل کنٹریکٹس دینے کی تجویز پیش کر دی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حالیہ ٹیسٹ کارکردگی تشویشناک ہے اور اگر ریڈ بال کرکٹ کو دوبارہ مضبوط بنانا ہے تو اس کیلئے طویل فارمیٹ کے ماہر کھلاڑیوں کو ترجیح دینا ہوگی۔
To strengthen our red ball cricket, we need to offer lucrative red ball contracts to specialist players.
It’s the best incentive to keep them committed to the longer format as this way they will commit to play minimum of 5 First Class matches per season and players will not make…
— Shoaib Malik 🇵🇰 (@realshoaibmalik) May 23, 2026
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ریڈ بال اسپیشلسٹس کو پرکشش سینٹرل کنٹریکٹس اور مالی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ سے مسلسل جڑے رہیں اور فرنچائز لیگز کی جانب غیر ضروری جھکاؤ کم ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو بہتر مالی مراعات دی جائیں تو وہ ہر سیزن کم از کم پانچ فرسٹ کلاس میچز کھیلنے پر توجہ دیں گے، جس سے ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بھی بلند ہوگا اور قومی ٹیم کیلئے بہتر کھلاڑی سامنے آئیں گے۔
پاکستان کیلئے 287 ون ڈے، 35 ٹیسٹ اور 124 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے والے سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ فرنچائز کرکٹ کے دباؤ میں آکر کئی کھلاڑی اپنی قدرتی صلاحیت اور تکنیک تبدیل کر لیتے ہیں، جو طویل فارمیٹ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے شہد کی عالمی مارکیٹ میں دھوم، ایکسپورٹ میں بڑا اضافہ
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں میں واضح فرق ہے، اس لیے عالمی سطح پر کامیابی کیلئے مکمل تیاری اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔
شعیب ملک نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں آدھی تیاری کے ساتھ کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی، قومی ٹیم کو ایسے کھلاڑی درکار ہیں جو مکمل طور پر تیار، پُرعزم اور طویل فارمیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
واضح رہے کہ شعیب ملک کی جانب سے یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیم کو بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد قومی ٹیم کی ٹیسٹ کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔





