اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کی گئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ سال کے دوران 2 لاکھ 59 ہزار پاکستانی شہریوں کو دنیا کے 36 مختلف ممالک سے بے دخل کیا گیا، جبکہ اوسطاً 132 پاکستانی شہری روزانہ کی بنیاد پر مختلف ممالک سے ملک بدر کیے جا رہے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پاکستانی شہریوں کی ملک بدری مختلف وجوہات کی بنیاد پر عمل میں آئی، جن میں جعلی یا نامکمل سفری دستاویزات، ویزا قوانین کی خلاف ورزی، غیرقانونی قیام اور دیگر امیگریشن ضوابط کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان انتخابات، الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ
ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق تقریباً 65 فیصد پاکستانی شہریوں کو پاکستان کے دوست ممالک سے بے دخل کیا گیا۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 17 ہزار پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق گزشتہ ساڑھے پانچ سال کے دوران صرف سعودی عرب سے ایک لاکھ 10 ہزار پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا، جبکہ اسی عرصے میں متحدہ عرب امارات سے 41 ہزار اور عمان سے 10 ہزار پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔
رپورٹ میں سال وار تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ سال 2021 کے دوران 17 ممالک سے 59 ہزار پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ 2022 میں 51 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح 2023 میں 21 ممالک نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر 44 ہزار پاکستانی شہریوں کو بے دخل کیا۔ سال 2024 کے دوران 57 ممالک سے 69 ہزار پاکستانیوں کو ملک بدری کا سامنا رہا، جبکہ گزشتہ سال مجموعی طور پر 58 ہزار پاکستانی مختلف ممالک سے ڈیپورٹ کیے گئے۔
دستاویزات کے مطابق رواں سال بھی پاکستانیوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 22 ہزار سے زائد پاکستانی شہری مختلف ممالک سے واپس بھیجے جا چکے ہیں۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی شہریوں کو سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے یا امیگریشن شرائط پوری نہ کرنے پر ایئرپورٹس پر ہی آف لوڈ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : صدر زرداری کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب
ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور نے ہم انویسٹی گیشن ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کی ملک بدری کی متعدد وجوہات ہیں، تاہم جعلی یا نامکمل دستاویزات اور غیرقانونی قیام اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں کے حوالے سے امیگریشن پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بدری جیسے ناخوشگوار حالات سے بچنے کے لیے شہری سفر سے قبل اپنی تمام مطلوبہ دستاویزات مکمل اور درست رکھیں۔

ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق تقریباً 10 ہزار پاکستانی شہریوں نے برطانیہ میں اسٹوڈنٹ ویزا کا غلط استعمال کیا، جس کے بعد امیگریشن حکام کو تمام مسافروں کی دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال کے واضح احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

تحقیقات کے دوران انسانی اسمگلنگ سے متعلق اہم انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق پانچ مختلف بین الاقوامی روٹس انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ ان میں ازبکستان، بیلاروس اور پولینڈ کا روٹ نمایاں تھا، جبکہ ماریشس، کناری آئی لینڈ اور اسپین کے راستے بھی انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیرقانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی شہریوں کو قانونی مشکلات اور ملک بدری جیسے مسائل سے محفوظ رکھا جا سکے۔





