وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں نگران دور کی بھرتیاں غیر قانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں نگران دور کی بھرتیاں غیر قانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے نگران حکومتوں کے دائرہ اختیار کے حوالے سے ایک دوررس فیصلہ سناتے ہوئے خیبرپختونخوا میں نگران دور اقتدار کے دوران کی جانے والی تمام بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔

فیصلے میںکہاگیا کہ نگران حکومت کا بنیادی کام صرف روزمرہ کے انتظامی امور چلانا ہوتا ہے اور وہ مستقل نوعیت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتی۔

فیصلے میں مذید لکھا گیا کہ نگران حکومت کسی بھی صورت منتخب حکومت کے مساوی اختیارات نہیں رکھتی اور اس کے ہر اہم اقدام کے لیے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔

فیصلے کے مطابق ملازمین کی بھرتیاں مستقل نوعیت کا اقدام ہیںاس لیے جنوری 2023 سے فروری 2024 کے دوران نگران حکومت کی جانب سے کی گئی تقرریاں قانون کے مطابق نہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں ویب سائٹس پر اپ لوڈ کرنا لازمی قرار،وفاقی آئینی عدالت کا تحریری فیصلہ جاری

اس طرح عدالت نے خیبرپختونخوا ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 کو آئین اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی قانون سے چند افراد متاثر ہوتے ہیں تو محض اس بنیاد پر اسے بنیادی حقوق کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی خیبرپختونخوا اسمبلی کو قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔

فیصلے کے ساتھ ہی برطرف ملازمین کی جانب سے دائر تمام اپیلیں خارج کر دی گئیں جبکہ نگران دور میں بھرتی کیے گئے درجہ چہارم کے ملازمین کی برطرفی برقرار رکھی گئی۔

Scroll to Top