خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث مچھلی منڈی بن گیا۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی جانب سے بجٹ تقریر شروع کرتے ہی اپوزیشن ارکان نے شور شرابا شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ سیاسی گفتگو کے بجائے صرف بجٹ دستاویز پر بات کریں۔
ہنگامہ آرائی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس تذکرے پر اپوزیشن کی خواتین ارکان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اسپیکر ڈائس کے سامنے آ کر نعرے بازی شروع کر دی جس سے ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔
اسی دوران مسلم لیگ ن کی خاتون رکن صوبیہ شاہد احتجاج کرتی ہوئی نشتوں سے نکل کر براہِ راست وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے بالکل قریب پہنچ گئیں۔
صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے فوری مداخلت کی اور صوبیہ شاہد کو آگے بڑھنے سے روک کر وزیر اعلیٰ سے دور دھکیل دیا۔ اس دوران اپوزیشن کی دیگر خواتین ارکان بھی احتجاج میں شامل ہو گئیں اور حکومتی بینچوں کے خلاف نعرے بازی کرتی رہیں۔





