وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے کا مالی سال 2026-27 کا 2.17 ٹریلین روپے کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ہےجس میں 48 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز ہے جبکہ غریب طبقے کو ریلیف دینے کے لیے کم سے کم ماہانہ اجرت 5 ہزار روپے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے بجٹ میں عوام دوست اقدامات کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کی پالیسی بھی اپنائی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے میں امن و امان کے قیام کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس شعبے کے لیے 191 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس رقم میں سے مجموعی طور پر پولیس کے سازوسامان کی خریداری کے لیے 14.5 ارب، اسلحہ و گولہ بارود کے لیے 7.774 ارب جبکہ بلٹ پروف اے پی سی اور دیگر گاڑیوں کے لیے 1.817 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مزید برآں تھرمل کیمرے، ڈرون، اینٹی ڈرون، جیمرز اور دیگر مواصلاتی آلات کے لیے 3.562 ارب، پشاور میں فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کے لیے 600 ملین اور اپر و لوئر چترال، جنوبی وزیرستان، اورکزئی، کرم، خیبر، مہمند اور باجوڑ جیسے ضم اضلاع میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے 3 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بھی بجٹ میں بھاری فنڈز تجویز کیے گئے ہیںجس میں صحت کے لیے مجموعی طور پر 334 ارب اور تعلیم کے لیے 468 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صحت کارڈ پلس کے تسلسل کے لیے 50 ارب، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے لیے 80 ارب، سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 14 ارب اور پشاور میں نئے جنرل اسپتال کی تعمیر کے لیے 4 ارب روپے مختص ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا فنانس بل: رکشوں اور گاڑیوں پر سالانہ ٹیکس عائد
تعلیم کے میدان میں ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے 10 ارب، سرکاری یونیورسٹیوں کے لیے 11.9 ارب، ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کے لیے 8.7 ارب، مفت کتب اور ای ایس ای ایف گرانٹ کے لیے 8.5 ارب جبکہ اسکولوں سے باہر بچوں کی واپسی کے لیے 5 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ کم کارکردگی والے اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے 3.3 ارب، طلبہ کو بلاسود قرضوں کے لیے 2 ارب اور اساتذہ کی نئی بھرتیوں کے لیے 1.7 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ دینی مدارس کے طلبہ کے لیے 145 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
سماجی بہبود اور عوامی فلاح کے دیگر منصوبوں کے تحت گڈ گورننس اقدامات کے لیے 19.3 ارب، احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب، زمونگ کور کمپلیکسز کی تعمیر کے لیے 1.1 ارب اور خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے لیے 100 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ صوبے کے انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی بہتری کے لیے 52 ارب، پشاور بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب، بلدیات کے لیے 90 ارب، ٹرانسپورٹ کے لیے 14 ارب، زراعت کے لیے 29 ارب، توانائی کے لیے 42 ارب اور زکوٰۃ کے لیے 28 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔
بی آر ٹی آپریشنل سبسڈی اور نئی بسوں کی خریداری کے لیے 7.5 ارب، ریسکیو 1122 کی تمام تحصیلوں میں توسیع کے لیے 2.2 ارب اور ماحولیات کے ترقیاتی بجٹ میں 98.99 ملین روپے شامل ہیں۔ قدرتی آفات سے بچاؤ کے پیشگی اقدامات کے لیے 258 ملین، الیکٹرک بائیکس اور رکشہ اسکیم کے لیے 2.5 ارب، 14 نئے گورنمنٹ کالجوں کی تعمیر کے لیے 362 ملین اور نوجوانوں کے انٹرنشپ پروگرام کے لیے 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور دیگر علاقائی پروگراموں کے لیے بھی فنڈز کا اعلان کیا ہے، جس میں قبائلی اضلاع میں احساس نوجوان پروگرام کے لیے 200 ملین اور سیاحت کے فروغ کے لیے 800 ملین روپے شامل ہیں۔ خوشحال ہزارہ پروگرام کے لیے 4 ارب، ہزارہ ڈویژن کی 8 تحصیلوں میں پلے گراؤنڈز کے لیے 150 ملین، کالام کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے 358 ملین، اقلیتی برادری کی خود کفالت کے لیے 51 ملین اور احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں جبکہ بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لیے بھی 2 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
ٹیکس ریلیف کے حوالے سے صوبائی حکومت نے بجٹ میں تاجروں اور عوام کو بڑی رعایتیں دی ہیں، جس کے تحت انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 0.75 فیصد کرنے اور ہوٹل بیڈ ٹیکس کو 7 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ پانچ مرلے تک کے رہائشی اور کمرشل مکانات کو پراپرٹی ٹیکس سے مکمل مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ کم از کم ماہانہ آمدن والے افراد اور پے اسکیل 1 سے 6 تک کے سرکاری ملازمین پر سے پروفیشنل ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کے لیے رائج ٹیکس ریلیف پالیسی کو آئندہ مالی سال میں بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔





