بجٹ میں آئی ڈی پیز اور سیلاب فنڈز کے نام پر 31 ارب کے اخراجات زبانی جمع خرچ ہیں، حقائق پبلک کیے جائیں، نثار باز

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما اور ممبر خیبر پختونخوا اسمبلی نثار باز ن حکومت کے مالیاتی اعداد و شمار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

صوبائی بجٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آئی ڈی پیز اور سیلاب متاثرین کے نام پر مختص اربوں روپے کے اخراجات کو محض زبانی جمع خرچ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان تمام فنڈز کے حقائق کو فوری طور پر پبلک کرے۔

نثار باز کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنی بجٹ تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ آئی ڈی پیز کو سہولیات کی فراہمی اور ان کے نقصانات کے ازالے کے لیے 18 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت واضح کرے کہ یہ 18 ارب روپے زمین پر کہاں اور کس طرح خرچ ہوئے؟ کیونکہ متاثرین تاحال مشکلات کا شکار ہیں۔

اے این پی کے رکنِ اسمبلی نے صوبے میں آنے والے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ (ناگہانی بارشوں) کے فنڈز پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ متاثرین کے دکانات، مکانات اور معاوضوں کی مد میں 13 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیںلیکن عوام ان اعداد و شمار سے مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان تمام فیکٹس اینڈ فگرز کو پبلک کیا جائے کیونکہ صوبے کے عوام یہ جاننے کا پورا حق رکھتے ہیں کہ ان کا پیسہ کہاں جا رہا ہے۔

نثار باز نے مزید کہا کہ اتوار کے روز جب صوبائی اسمبلی کا سیشن دوبارہ شروع ہوگا تو عوامی نیشنل پارٹی ان تمام بجٹ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنا باقاعدہ اور سخت موقف ایوان کے سامنے رکھے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ آج میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا موقف پارٹی کی متفقہ پالیسی کا حصہ ہے اور اتوار کے سیشن میں اس پر مزید تفصیل سے بات کی جائے گی۔

Scroll to Top