افغانستان کے انتہائی پسماندہ، محروم اور جنگ زدہ صوبے خوست کے عوام جہاں ایک طرف شدید معاشی بدحالی، بھوک اور غربت کا سامنا کر رہے ہیں وہاں دوسری طرف افغانستان کےعبوری حکومت (ٹی ٹی اے) کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی مبینہ شاہانہ طرزِ زندگی اور پرتعیش محل کی تعمیر نے شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک حالیہ ویڈیو میں خوست کے غریب ترین خطے میں وزیر داخلہ کے لیے زیرِ تعمیر ایک وسیع اور انتہائی محفوظ لگژری محل کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں۔
یہ پرتعیش حویلی ان لاکھوں عام افغان شہریوں کی حالتِ زار کے بالکل برعکس ہے جو اس وقت شدید اقتصادی بحران اور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ صورتحال افغان عبوری حکومت کے ان دعووں پر سوالیہ نشان ہے جن میں وہ عام شہریوں کو سادگی، قناعت اور مالی قربانی دینے کی تلقین کرتے ہیں۔





