بیرونی فنڈنگ اب ہمیں ملے گی، ماہ مارنگ لانگو کی سزا پر ’بی وائی سی‘ کی قیادت کا بھی خوشی کا اظہار

گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بدامنی، ہنگامہ آرائی اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے مقدمات میں روز بروز نئے اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت کے مطابق گوادر احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کے جوان سپاہی شبیر احمد شہید پر وحشیانہ پتھراؤ کرنے اور ان کی شہادت کا سبب بننے والے اہم ملزم صبغت اللہ نے اپنے اہلخانہ کے ذریعے رحم کی اپیل دائر کر دی ہے۔

ملزم کے اس اقدام اور اعترافِ جرم نے تحریک کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے والے ماسٹر مائنڈز کو قانون کے کٹہرے میں بے نقاب کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق ملزم صبغت اللہ نے رحم کی اپیل میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ معصوم ہے اور اس کا ذاتی طور پر کوئی قصور نہیں ہے۔

ملزم کا کہنا ہے کہ اسے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کی جانب سے براہِ راست احکامات اور ہدایات دی گئی تھیں، جن پر عمل کرتے ہوئے اس نے سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : عدالت نے ماہ رنگ لانگو کو گوادر احتجاج کے دوران ایف سی اہلکار کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنادی

ملزم نے شبیر بلوچ شہید کے اہل خانہ اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے گمراہ کر کے اس کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا، لہٰذا اس کی کم عقلی یا لاعلمی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق یہ اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ احتجاج کی آڑ میں نوجوانوں کو ڈھال بنا کر سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے منظم طریقے سے اکسایا جاتا تھا۔

دوسری جانب ‘آزاد ڈیجیٹل’ کے بلوچستان میں موجود نامہ نگاروں اور سینیئر تجزیہ کاروں کی رپورٹ کے مطابق ماہ رنگ کو عدالت کی طرف سے ملنے والی سزا کے بعد صوبے کے امن پسند عوام میں قانون کی حکمرانی اور بالادستی کے متعلق گہرا اطمینان پیدا ہوا ہے۔

عام شہریوں کا ماننا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور کسی کو بھی حقوق کی آڑ میں وردی پوش جوانوں کے قتل یا بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس عدالتی فیصلے کو بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سزا کے بعد مقامی سطح پر کام کرنے والی ’بلوچ یکجہتی کونسل‘ کی قیادت میں اندرونی طور پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہ رنگ کے منظرنامے سے ہٹنے کے بعد اب مقامی قیادت اس آس پر بیٹھی ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والی بھاری فنڈنگ کے منہ اب ان کی طرف موڑ دیے جائیں گے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بظاہر نظر آنے والی تحریکوں کے پیچھے اصل محرکات ذاتی مفادات اور بیرونی فنڈز کا حصول ہیں، جس کے لیے معصوم نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا جاتا ہے۔

Scroll to Top