انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (ATC) نے تقریباً دو سال کی طویل قانونی کارروائی کے بعد ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ماہ رنگ لانگو کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ سزا 2024 کے گوادر دھرنے کے دوران مظاہرین کو اکسانے اور فرنٹئیر کور (FC) کے ایک اہلکار کے بے رحمانہ قتل کے جرم میں سنائی گئی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق شہید سپاہی شبیر بلوچ جن کا تعلق سبی سے تھا گوادر میں سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے کہ احتجاج کے دوران ایک مشتعل ہجوم نے انہیں اکیلا پا کر قابو کیا اور تشدد کر کے شہید کر دیا۔
یہ کیس سیاسی نظریات یا پرامن احتجاج کے حق سے متعلق نہیں تھا بلکہ ایک مخصوص سرکاری اہلکار کے قتل کا معاملہ تھا جس میں کواڈ کاپٹر (ڈرون) کی ویڈیو فوٹیج اور گواہوں کے بیانات جیسے ٹھوس شواہد موجود تھے۔
عدالتی کارروائی کے دوران پیش کی گئی کواڈ کاپٹر فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل ہجوم نے نہتے سپاہی پر حملہ کیا اور اس میں ماہ رنگ لانگو اور صبغت اللہ کی جانب سے ہجوم کو اکسانے اور قیادت کرنے کا کردار واضح طور پر ثابت ہوا۔ اس الیکٹرانک ثبوت نے پرامن احتجاج اور پرتشدد ہجوم میں تفریق کو بالکل واضح کر دیا۔ اتنے لرزہ خیز واقعے کے باوجود بی وائے سی (BYC) کی قیادت نے نہ تو اس قتل کی مذمت کی اور نہ ہی شہید کے خاندان سے معافی مانگی۔
ملزمان کو قانون کے تحت دفاع کے تمام مواقع فراہم کیے گئے اور یہ مقدمہ دو سال تک چلتا رہا۔ آغاز میں گوادر کے جج نے سکیورٹی خدشات کے باعث کیس چلانے سے معذرت کر لی تھی جس کے بعد مقدمہ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ گواہوں کی دور دراز مقامات پر موجودگی کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی کا انتظام کیا گیا۔
دفاعی وکلاء نے پہلے ویڈیو لنک پر اعتراض کیا، اور بعد میں جج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ جب شواہد کا سامنا کرنا مشکل ہو گیا تو دفاعی وکلاء نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔ تاہم عدالت نے ملزمان کے حقِ نمائندگی کو برقرار رکھنے کے لیے سرکاری خرچے پر وکیل مقرر کیا جبکہ پی ٹی آئی اور حکومت مخالف سیاست سے وابستہ ایک معروف وکیل نے بھی دفاعی ٹیم کی قیادت کی لیکن وہ استغاثہ کے شواہد کو جھٹلا نہ سکے۔
اس کیس کے دوران ججوں، گواہوں اور وکلاء کو ڈرانے دھمکانے کی شدید کوششیں کی گئیں۔ سرکاری قانونی ٹیم کے ارکان کو حفاظتی تحویل میں لینا پڑا جبکہ فیصلہ آنے سے ایک روز قبل مڈل آرڈر کے لیڈ وکیل کے گھر پر فائرنگ بھی کی گئی۔
عدالت کے اس فیصلے نے پرامن سیاسی سرگرمی اور مجرمانہ تشدد کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ ہر شہری کو احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے، ہجوم کو اکسانے یا سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ملزمان کے پاس اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا حق موجود ہے لیکن اس کے لیے دھمکیوں یا سڑکوں کے دباؤ کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔




