177 ترقیاتی اسکیموں کے لیے صرف 10 ہزار روپے،پی ٹی آئی ایم پی اےسجاد بارکوال کی صوبائی بجٹ پرسخت تنقید

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت دلچسپ اور حیران کن صورتحال پیدا ہو گئی جب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اپنے ہی رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) سجاد بارکوال نے اپنی حکومت کے پیش کردہ بجٹ کا پوسٹ مارٹم کر دیا۔

انہوں نے بجٹ میں فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں مختص شدہ رقم کے پیچھے نفرت، محبت، دوستی اور سازش سب کچھ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

سجاد بارکوال نے پی پی پی کے اپوزیشن لیڈر احمد کنڈی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہماری حکومت نالائق ہے تو آپ ہی صوبے کے لیے کچھ کر دیں اور ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ اپوزیشن لیڈر نے گزشتہ روز بجٹ پر جو تقریر کی تھی وہ اس سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔

سجاد بارکوال نے بجٹ کے اعداد و شمار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بجٹ میں 177 ترقیاتی اسکیموں کے لیے صرف 10 ہزار روپے اور 187 اسکیموں کے لیے محض ایک لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، جو کہ مذاق کے مترادف ہے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ اس بجٹ میں ان کے اپنے حلقے کی کئی اہم اسکیموں کو نکال دیا گیا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ ان کے حلقے کے ساتھ ایسا امتیازی رویہ کیوں اپنایا گیا۔

پی ٹی آئی ایم پی اے نے دوٹوک الفاظ میں وارننگ دی کہ اگر ان کے حلقے کے ساتھ یہ زیادتی برقرار رکھی گئی تو وہ ہر فورم پر اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور کسی کو بھی نہیں بخشیں گے۔

صوبائی بجٹ پر تنقید کے ساتھ ساتھ سجاد بارکوال نے وفاقی حکومت کو بھی شدید نشانے پر لیا اور اپوزیشن سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے صوبائی بجٹ کو ’’کاپی پیسٹ بجٹ‘‘ قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ وفاق میں اپوزیشن جماعتوں کی حکومت ہے، اس لیے اپوزیشن لیڈرہمارے قائد (عمران خان) کے ساتھ جیل میں رکھے جانے والے رویے پر وفاق سے بات کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو ایک پائی بھی فنڈ نہیں دے رہی اور صوبے کے تمام وسائل پر قابض ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاق کی رکاوٹوں کے باعث خیبر پختونخوا میں آئل ریفائنری نہیں بن پا رہی، اگر یہ ریفائنری بن جائے تو صوبے میں لاکھوں ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

سجاد بارکوال نے صوبے کی معاشی مجبوری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پورا انحصار اسلام آباد پر ہے، وہاں سے پیسے آئیں گے تو ہی ہمارا کام چلے گا۔

انہوں نے اپوزیشن سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ تمباکو کا دیرینہ مسئلہ حل کروائیں اور وفاق سے کہہ کر صوبے کے بند تجارتی راستے کھلوائیں تاکہ پختونخوا میں معاشی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

Scroll to Top