وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران کی کامیابی ہماری کامیابی اور اس کی ناکامی ہماری ناکامی ہے، پاکستان اور ایران ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں اور ہم ہر شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک فارسی شعر کے ذریعے ایران کے ساتھ قریبی اور برادرانہ تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا، جس پر ایرانی صدر اور وفد میں شامل دیگر اعلیٰ حکام نے تالیاں بجا کر داد دی۔
وزیرِ اعظم نے ایرانی صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر ایک بار پھر خوش آمدید کہتے ہوئے آنے والے وقت میں ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہزاروں افراد کی شہادت پر ہمیں گہرا افسوس ہے لیکن الحمدللّٰہ ہم اس وقت یہاں ایک روشن مستقبل کے لیے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان پائیدار معاہدے کے قیام تک اپنا اہم سفارتی کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔ وزیرِ اعظم نے مشکل حالات میں ایرانی عوام اور قیادت کے عزم کو زبردست خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ اعظم نے انکشاف کیا کہ ایران امریکا جنگ بندی اور اس اہم مفاہمتی یادداشت کی تیاری میں فیلڈ مارشل (سید عاصم منیر) نے ان تھک محنت کی ہے اور یہ اللّٰہ کا بے حد کرم ہے جس نے ہمیں یہ کامیابی عطا کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی عزم کیا تھا کہ اس جنگ کو رکوانے کے لیے جو کچھ ممکن ہوا کریں گے۔
شہباز شریف نے امن مذاکرات کی بھرپور حمایت کرنے پر قطر کے امیر اور وزیرِ اعظم، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کرنے پر وہ ایران کے شکر گزار ہیں، جبکہ دنیا میں کچھ شرپسند عناصر ایسے بھی تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ یہ مفاہمت ہو۔
پریس کانفرنس سے قبل وزیرِ اعظم ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں دوطرفہ سٹریٹجک تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔





