وحیداللہ
ضلع باجوڑ کی تحصیل نواگئی کے علاقے الف خان کلے میں واقع سرکاری گرلز پرائمری اسکول میں پانچ معصوم طالبات کو مبینہ طور پر اسکول سے نکالے جانے کاواقعہ سامنے آیا ہے۔
مقامی شہری فیاض خان نے اسکول کی دو خواتین اساتذہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ان کی پانچ معصوم بچیاں اسی اسکول میں زیرِ تعلیم تھیں
۔ فیاض خان کا دعویٰ ہے کہ استانیوں کی جانب سے معصوم بچیوں سے اسکول کی صفائی ستھرائی اور ان کے ذاتی و گھریلو کام کاج کروائے جاتے تھے۔ جب بچیوں نے ان ذاتی کاموں کو کرنے سے انکار کیاتو اساتذہ نے مبینہ طور پر غصے میں آ کر انہیں اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ تھما دیے اور اسکول سے فارغ کر دیا۔
متاثرہ والد فیاض خان نے اپنے الزامات کے ثبوت کے طور پر پانچوں بچیوں کے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹس باقاعدہ طور پر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پیش کیے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین اساتذہ کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کا تبادلہ یا معطلی یقینی بنائی جائے تاکہ علاقے کے دیگر بچے اور بچیاں بغیر کسی خوف و خطر کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ: شہید صحافی ڈاکٹر نور حکیم خان کی 19ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی
فیاض خان نے ایک اور شخص خان بہادر پر بھی الزام لگایا کہ اس نے پہلے ان سے شناختی کارڈ مانگا اور انکار کرنے پر شناختی کارڈ بلاک کرانے کی دھمکیاں دے کر بچیوں کو اسکول سے نکلوانے میں کردار ادا کیا۔
دوسری جانب گرلز اسکول کی انتظامیہ اورخواتین اساتذہ نے فیاض خان کے ان تمام الزامات کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔
اسکول انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ کہانی بالکل من گھڑت ہے اور یہ پورا معاملہ دراصل ایک ذاتی اور گھریلو تنازع کا شاخسانہ ہے۔
انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بچیوں کے والد فیاض خان نے خود فون کر کے اسکول انتظامیہ سے اپنی بچیوں کے سرٹیفکیٹس جاری کرنے کی باقاعدہ درخواست کی تھی جس پر دفتری طریقہ کار کے مطابق انہیں سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اساتذہ کو ذاتی عناد کا نشانہ بنانا ہے۔





