نیویارک: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان اور ڈنمارک کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی تاریخی قرارداد “امن دستوں کے خلاف جرائم کا محاسبہ” بھاری اکثریت سے منظور کر لی، جسے 153 رکن ممالک کی غیرمعمولی حمایت حاصل ہوئی۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق قرارداد کی منظوری دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے تحفظ اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا واضح ثبوت ہے۔
قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے امن دستوں، جنہیں عام طور پر “بلیو ہیلمٹس” کہا جاتا ہے، پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے واقعات کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
منظور شدہ قرارداد کے مطابق امن فوجیوں کو نشانہ بنانے والے حملے بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، لہٰذا ایسے واقعات کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : دبئی جانے کے خواہشمند مسافروں کیلئے سنہری موقع
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امن دستوں پر حملوں میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
اس اہم قرارداد کے ذریعے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹریٹ میں ایک نئے خصوصی عہدے “سینئر فوکل پوائنٹ” کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے، جو امن دستوں کے خلاف جرائم سے متعلق معاملات کی نگرانی اور رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق قرارداد کی منظوری پاکستان کی فعال سفارت کاری اور عالمی امن کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کی اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔





