پشاور: بڈھ بیر مبینہ اجتماعی زیادتی کیس کا ڈراپ سین، 3 ملزمان اور جرگہ ارکان گرفتار

کامران علی شاہ

پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ واردات میں ملوث تینوں مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اس سنگین معاملے پر غیر قانونی پنچائت کرنے والے متعدد جرگہ ارکان کو بھی حراست میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ چند ماہ قبل پیش آیا تھا تاہم قانون کو مطلع کرنے کے بجائے مقامی جرگے نے اپنے طور پر معاملے کا فیصلہ کرانے کی کوشش کی تھی۔

جرگے نے مبینہ طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ملزمان میں سے ایک متاثرہ لڑکی سے شادی کرے گا جبکہ اس کے بدلے متاثرہ لڑکی کے والد کو مالی معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔

بعد ازاں ملزمان اور متاثرہ لڑکی کے والد کے درمیان جرگے کی طے شدہ رقم کے لین دین پر تنازع پیدا ہو گیا جس کے بعد لڑکی کے والد نے انصاف کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔

شکایت موصول ہوتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے باضابطہ ایف آئی آر درج کی اور کارروائی کے دوران تینوں ملزمان سمیت غیر قانونی تصفیہ کرانے والے جرگہ ارکان کو بھی دھر لیا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان اور متاثرہ لڑکی کے درمیان پہلے سے رابطہ موجود تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ واقعے کی گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد تمام شواہد کی روشنی میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Scroll to Top