میثاقِ جمہوریت پر علی محمد خان کا اہم بیان سامنے آگیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ ملک میں میثاقِ جمہوریت ممکن ہے، تاہم اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر مستقبل کے لیے واضح قواعد و ضوابط طے کرنا ہوں گے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے میثاقِ جمہوریت کی پیشکش پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو باہمی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ سیاسی قیادت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ “رولز آف گیمز” کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں تنازعات سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طے ہونا چاہیے کہ آئندہ کن حدود کے اندر رہ کر سیاسی عمل آگے بڑھے گا تاکہ بار بار نئے تنازعات جنم نہ لیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ حکومت میں رانا ثناء اللہ، راجہ پرویز اشرف اور احسن اقبال جیسے سنجیدہ لوگ موجود ہیں جو مذاکراتی عمل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مسلسل مذاکرات کی پیشکش سامنے آ رہی ہے جبکہ محمود خان اچکزئی پر بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی اجلاس میں انہیں سپورٹ کرنے کی توثیق کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس سخت سیکیورٹی میں اختتام پذیر

انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ 2013، 2018 اور 2024 کے انتخابات سمیت تمام متنازع حلقے کھولے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تو اپنے حلقے سے تحقیقات شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، تاہم صرف حلقے کھولنا مسائل کا مستقل حل نہیں۔

پارٹی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامی عہدوں پر موجود افراد کو پارٹی کے اندرونی مسائل فوری طور پر حل کرنے چاہئیں اور ایسے معاملات 24 گھنٹوں کے اندر نمٹائے جانے چاہئیں۔

بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے علی محمد خان نے کہا کہ اعلیٰ سطح پر اس معاملے میں مطلوبہ سنجیدگی اور فوری اقدام کا احساس دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ نکالا جائے۔

جیل کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیل کے اندر گرمی کی شدت انتہائی سخت ہوتی ہے اور اس کا موازنہ گھریلو ماحول سے نہیں کیا جا سکتا۔

Scroll to Top